مشرف کا کرشمہ ـ ـ ـ الطاف کا نظریہ ــــــــ احمد اشفاق

نظریہ ضرورت جن لوگوں کے کام آتا ہے وہ ہر شے کو اپنی ضرورت کے حساب سے تولنے لگتے ہیں – جنرل پرویز مشرف صاحب کو تو آپ جانتے ہی ہیں ، جنرل صاحب ضروریات کے تحت لوگوں کو استعمال کرنے سے اچھی طرح واقف ہیں– افغان جنگ کے دوران اپنی ضرورت اور امریکا کو بلیک میل کرنے کے لئے سرحد میں ایم ایم اے کی حکومت بنوائی ، اپنی ضرورت کی خاطر شوکت عزیز کو امپورٹ کیا ، اپنے مقاصد کے حصول کے لئے پیپلز پارٹی کا فارورڈ بلاک بنایا ، اور اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے ایم کیو ایم کو استعمال کرتے رہے —

جنرل صاحب خوش فہمیوں کا شکار بھی رہتے ہیں ، فیس بک پر ٢ لاکھ فالورز ہو گئے تو انھیں لگا کہ وہ الیکشن جیت جائیں گے اور وہ پاکستان آ گئے ، یہ اور بات کہ ایئر پورٹ پر انھیں لینے ٢ درجن لوگ ہی آئے یہ بھی موضوع نہیں کہ کس طرح جناب عدالت میں پسینے بہاتے رہے اور پھر بھلا ہو اس دل کا جس میں درد ہوا اور ان کے جانے کی سبیل بنی اور سلامت رہے وہ  کمر جو یہاں درد کا شکار تھی لیکن دبئی میں مٹکتی رہی اور اسی کمر نے ان کے جانے کی راہ ہموار کی —  ایم کیو ایم زیرعتاب آئی تو انھیں لگا کہ ان کی لاٹری لگ جائے گی اور مہاجر انھیں اپنا سر پرست اعلی مان لیں گے — 

ہمیشہ کی طرح آج بھی وہ چاہتے ہیں کہ تمام لوگ ان کی ضروریات پوری کریں ، لیکن آج وہ اس ضرورت کو باہمی سمجھتے ہیں…. اب کی بار مشرف صاحب کو یہ غلط فہمی   ہے کہ مہاجروں کو ان کی زیادہ  ضرورت ہے—- ان کی شدید ترین خواہش ہے کہ وہ ایم کیو ایم کے مینڈیٹ کو اپنی جیب میں رکھتے ہوئے اے پی ایم ایل کی سرگرمیاں بحال کریں- کم از کم ان کے پاس ایک ایسی جماعت تو ہوگی جو عوامی طاقت رکھتی ہو— اس کے لئے وہ اپنی “کرشمہ ساز” شخصیت پیش کرتے ہیں ، اپنا نام نہیں لیتے لیکن سب کچھ کہہ جاتے ہیں — فرماتے ہیں کہ الطاف حسین کے بعد مہاجروں کے پاس ایسی کوئی کیرزمیٹک (کرشمہ ساز) شخصیت نہیں جو انھیں جوڑ کے رکھ سکے —
جنرل صاحب کہتے ہیں کہ ان کے دور میں کراچی کا نقشہ بدل گیا ، ہم اسے تسلیم کرتے ہیں لیکن ہمیں وہ آدمی بحیثیت لیڈر قبول ہے جس نے جنرل مشرف کو کراچی کا نقشہ بدلنے کیلئے مصطفیٰ کمال دیا ، وہ مشرف قبول نہیں جس نے مصطفیٰ کمال کو کام کرنے کے لئے  پیسے دیے—- جنرل صاحب کو یہ سمجھنا ہوگا کہ مہاجروں کو نظریہ ضرورت کی گود میں بیٹھا کوئی آمر نہیں بلکہ  ان کے حقوق کے تحفظ کا نظریہ دینے والا قبول ہے— ہمارے لئے کرشمہ ساز وہ ہستی ہے جس نے ہمیں ایک کیا ہے ، جس نے ایک بدترین فوجی آپریشن کے بعد آپ جیسے آمر کو بھی مجبور کیا کہ ہم سے بات کی جائے– ہم غیرتمند لوگ ہیں ہم ایک آدمی کی جدوجہد کو یوں کسی کی جھولی میں نہیں ڈال سکتے–آپ کے خیر خواہ کتنا ہی زور لگا لیں ، چاہے کتنی ہی محنت کرلیں لیکن ہم نہیں جھکیں گے… ہم انتظار کر لیں گے ، عذاب سہہ لیں گے، جبر برداشت کر لیں گے لیکن آپ کو مسیحا تسلیم نہیں کریں گے– ہم آپ کا احترام کرتے ہیں لیکن اگر آپ ہمارے سر پر مسلط ہونا چاہتے ہیں تو انتہائی معذرت آپ کوئی اور مہم جوئی کیجئے ، ہم با شعور اور با وفا لوگ ہیں–  ہماری نفسیات  “نان ہے تو جہان ہے” والی نہیں …ہم قیمے والے نان پہ ووٹ نہیں دیتے نہ ہی ہم وہ لوگ نہیں جنھیں جہان جی چاہا ہانک دیا—- نون نہیں تو قاف سہی، قاف نہیں تو انصاف سہی —
اگر آپ ظرف رکھتے ہیں تو دنیا کو آ کر بتائیں کہ ایم کیو ایم اور الطاف حسین را کے ایجنٹ نہیں ہیں ، یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ١٠ سال افواج پاکستان کا ساتھ دیا ، اگر یہ را ایجنٹ ہیں تو یہ بحیثت آرمی چیف آپ کے اوپر بھی ایک سوالیہ نشان ہے ، آپ اتنی آسانی سے دامن نہیں بچا سکتے ، اتنی آسانی سے مہاجروں کی سرپرستی کے خواب نہیں بن سکتے … آپ کو جواب بھی دینا ہوگا اور اگر یہ را ایجنٹ ہیں تو ان کا ساتھ دینے کا حساب بھی دینا ہوگا— اگر الطاف حسین کے لئے راستہ دشوار ہے تو اتنا آسان سفر آپ کے لئے بھی نہیں ہوگا— ان مہاجروں نے ہندوستان سے پاکستان لے لیا تھا آپ سے جواب و حساب تو بہت آسانی سے لے لیں گے !
آپ کو اپنا تمام تر کرشمہ اور تجربہ مبارک ، آپ اپنا کرشمہ رکھ لیجئے ہم اپنا نظریہ رکھ لیتے ہیں— ہمیں منزل کے نشاں دکھانے والا رہنما زیادہ عزیز ہے ، ہمیں اسی کی رہنمائی درکار ہے– ہمارا رہبر و رہنما ایک ہی ہے اور وہی ہمیں منزل تک لے جائے گا ،ہم خاندانی لوگ ہیں جسے دل میں بسا لیں اسے کسی کے کرشمے سے متاثر ہو کر یا حالات سے ڈر کر دل سے نکالا نہیں کرتے   — ہمارے بارے میں تو صدیوں پہلے نظیر اکبرآبادی کہہ گئے تھے :   :  
ترے مریض کو اے جاں شفا سے کیا مطلب وہ 

خوش ہے درد میں اس کو دوا سے کیا مطلب جو 

اپنے یار کے جور و جفا میں ہیں مسرور 

انہیں پھر اور کے مہر و وفا سے کیا مطلب 

فقط جو ذات کے ہیں دل سے چاہنے والے

انہیں کرشمہ و ناز و ادا سے کیا مطلب
#_احمد_اشفاق

Leave a Comment

کمال ہی کمال ہے – احمد اشفاق

کمال ہی کمال ہے کا نعرہ اگر کسی کی ذات پر جچتا ہے تو وہ مصطفیٰ کمال نہیں ہیں — اہل سیاست کو ایسے نعروں سے اجتناب کرنا چاہیے، ایسے نعرے اہل علم پر جچتے ہیں، جو زیادہ باکمال ہو نعرہ بھی اسی کا گونجے— جو شخصیت اس نعرے کے ساتھ انصاف کر سکتی ہے وہ حضرت مدثر کمال صاحب ہیں —

معاشیات کے ماہر، گورمنٹ پریمیئر کالج کے سابقہ پرنسپل اور ایک عظیم استاد– ہماری کتنی بدنصیبی ہے کہ ہم ان شخصیات سے واقف نہیں ہیں جنہوں نے اصل میں اس معاشرے میں ایک مثبت کردار ادا کیا ہے ، جنہوں نے تعلیم کو زیور جانا ہے اور اس کے لئے زندگی وقف کر دی– میں اس بات کا شاہد ہوں کہ مدثر صاحب نے اپنے وقت اور تعلیم پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا، انہوں نے اپنا کام بھی بھرپور لگن سے کیا اور دوسروں سے بھی کام لے کر دکھایا–  چاہے کلاس میں ایک بچہ ہی کیوں نہ رہا ہو انہوں نے کلاس لی اور مکمل دیانت داری سے لی — نہ وہ جمیعت کی غنڈہ گردی کو خاطر میں لاۓ اور نہ اے پی ایم ایس او کی بدمعاشی سے مرعوب ہوئے —
حضرت کے بارے میں جلد اپنی یاداشت کے سہارے ایک تفصیلی تحریر مرتب کروں گا، لیکن جانتا ہوں کہ آپ کی ذات کے ساتھ ایک فیصد بھی انصاف نہ کر پاؤں گا — تب تک آپ ان کی صحت کے لئے دعا گو رہیے اور میرے ساتھ یہ نعرہ لگائیے :
“کمال ہی کمال ہے ، مدثر کمال ہے”—

احمد اشفاق

Leave a Comment

صحافی اور ٹویٹر پولز 

ایک تو میں ان صحافیوں کے ٹویٹر پولز سے تنگ آ چکا ہوں — آپ کے خیال میں کون سی جماعت کراچی کی سیاسی خلا پر کر سکتی ہے ؟ آپ کے خیال میں اگلے الیکشن میں کس کی اکثریت ہوگی ؟ آپ کے خیال میں کون سی جماعت کراچی کے عوام کی حمایت حاصل کرے گی ؟ آپ کے خیال میں کراچی کی نمائندہ جماعت کونسی ہے ؟

اتنے فضول سوالات پوچھ کر اپنا اور دوسروں کا وقت برباد نہ کریں ، شہر جسے پوجتا ہے اس پر تو ہر طرح کی پابندی ہے، ہر قسم کے ہتھکنڈے استعمال کر کے اسے دیوار سے لگا کر ایسے سوال کیوں پوچھیں جائیں؟   پوچھنا ہی ہے تو یہ پوچھیں کہ اگر حالات ایسے ہی رہے تو اگلے انتخابات میں کون سا گدھ گوشت کا بڑا حصّہ ہتھیانے میں کامیاب ہوگا ؟؟؟؟ یا یہ پوچھیں کہ اگر الطاف حسین الیکشن لڑتے ہیں تو کون سی جماعت دوسرے نمبر پر آئے گی ؟ یا کس کس کی ضمانت ضبط ہوگی؟ یا یہ پوچھیں کہ آپ کے خیال میں تمام جماعتیں مل کر بھی الطاف حسین کے خلاف لڑیں تو کیا اپنی ضمانت بچا پائیں گی ؟؟  یہ ہیں حقیقت پر مبنی سوالات اور زمینی حقائق  !

احمداشفاق 

Leave a Comment

مان میرا احسان ارے نادان

_مان_میرا_احسان__ارے_نادان

انسان جہاں جاگ اٹھے ، وہیں  سویرا ہے ، اگر احسان اللہ احسان خواب غفلت سے ذرا دیر میں جاگے تو کیا ہوا ؟ یہی کیا کم ہے کہ ہمارے کسی غیور فوجی جوان کی گولی کھانے سے پہلے جاگ اٹھے — غفلت کی نیند سے جاگ جانا ابدی نیند سونے سے تو بہتر ہی ہے !

تو کیا ہوا اگر وہ ہمارے ساٹھ ہزار شہری مار کر جاگے ؟ ہمارے فوجیوں کے گلے کاٹ کر جاگے ؟ لاشوں کو قبر سے نکال کر درختوں پر ٹانگ کر جاگے ؟ ان گنت بم دھماکوں میں سینکڑوں شہریوں کے چیتھڑے اڑا کر جاگے ؟ سکولوں میں علم کی شمع بجھا کر جاگے – مزاروں پر دھماکے کر کے بیدار ہوئے — شیعوں کا قتل عام کر کے آنکھ کھولی —– عیسائیوں کو گولی سے بھون کر اٹھے یا رنگ مذہب کی تفریق کیے بغیر جانوروں کی  طرح انسانوں کو ذبح کر کے جاگے !! آخر جاگ تو گئے !!

کیا فرق پڑتا ہے اگر انھیں اس بات کا ادراک بہت دیر میں ہوا کہ طالبان بیرونی  ایجنڈے پر کاربند ہیں ، بھارت اور افغانستان کے ہاتھوں استعمال ہو رہے ہیں — ہمیں تو اس بات پر مسرت ہونی چاہیے کہ حضور کو آج یہ احساس ہو گیا کہ پاک فوج مرتد نہیں بلکہ مجاہد ہے —- یہ بحث بھی غیر ضروری ہے کہ ان کو ١٠ سال تک بھتے لینے میں ، اغوا برائے تاوان کرنے میں یا قتل و غارت مچانے میں کوئی عار کیوں نہ محسوس ہوئی ، انھیں اتنے عرصے بعد کیونکر لگا کہ یہ کام غیر قانونی ، غیر اسلامی ہیں اور ایسا کر کے وہ  کفار کی خدمت کر رہے ہیں —

 آپ ان باتوں میں وقت نہ برباد کیجئے ….آپ ایک سچے لیکن بہکے ہوئے ناراض مجاہد کی پہچان دیکھیے کہ وہ اپنے ہی ملک میں قتل عام کرتا رہا ، بے گناہوں کو خون میں نہلاتا رہا ، ریاست کو للکارتا رہا ، معصوموں کے لہو سے ہولی کھیلتا رہا  اور اسے سو فیصد جائز بھی سمجھتا رہا—-  لیکن جیسے ہی اس کے سامنے اسرائیل کا نام آیا اوراسرائیل کی حمایت و تائید کی بات ہوئی ، فوری طور پہ اس مجاہد کو یہ احساس ہو گیا کہ میاں، یہاں دال میں کچھ کالا ہے ، پوری پاکستانی قوم میری دشمن ہو سکتی ہے مگر اسرائیل میرا دوست نہیں ہو سکتا ! حضرت احسان کے ساتھ بھی تو ایسا ہی ہوا اور ذرا دیکھیے کتنے اچھے وقت پر ہوا  !!!

آپ ایسا ہرگز نہ سوچیے کہ احسان اللہ احسان صاحب کے نزدیک اسلام کی تشریح وہی ہے جو طالبان کرتے ہیں— وہ تو آج اپنے پیغام میں واضح طور پر کہہ  رہے ہیں کہ طالبان نے اسلام کی غلط تشریح کر کے نوجوان نسل کو گمراہ کیا، اور طالبان قیادت صرف اپنے مفاد کے لئے سرگرم عمل ہے   —اصل میں احسان صاحب کے دل میں تو ایمان کی شمع روشن تھی لیکن ہماری بے اعتنائی کی ہوا اسے بجھاتی رہی اور اس میں  کچھ کوتاہیاں ہماری بھی ہیں ، ہم نے اگر عمران خان صاحب کی بات مانی ہوتی اور طالبان کو دفتر فراہم کیا ہوتا تو آج احسان اللہ احسان ہی نہیں تمام تر طالبان قیادت تائب ہو چکی ہوتی — منور حسن چیختے رہے کہ طالبان شہید ہیں ، ان کا امیر شہید ہے، مگر ہم نہ مانے ، اور یہی روش ہمارے ‘ناراض بھائیوں’ کی ناراضگی کو مزید بڑھاوا دیتی رہی — شکر منائیے ، مٹھائیاں تقسیم کیجئے ، نوافل ادا کیجئے کہ حضرت احسان اللہ احسان نے اپنی ناراضگی ختم کر دی ہے ! احسان بھائی بھی تو یہی کہتے ہوں گے کہ ” مان میرا احسان ، ارے نادان کہ میں نے چھوڑ دیے طالبان”—-

احسان صاحب کے راہ راست پر آ جانے کے بعد ہمیں یہ امید کرنی چاہیے کہ حالات بہتر ہوں گے ، آھستہ آھستہ سب شر پسند ‘ناراض’ عناصر قومی دھارے میں آتے جائیں گے — خود کش دھماکے ختم ہوں گے ، فرقہ واریت کا خاتمہ ہوگا ، فاٹا سے لے کر کراچی تک امن و سلامتی ہوگی — ہندوستان اور افغانستان کی مشترکہ سازشوں کا خاتمہ ہوگا ، ہماری قوم کو ایک متبادل بیانیہ فراہم کر دیا جائے گا جو آئندہ دس پندرہ برس کے لئے کافی ہوگا ——

احمد لدھیانوی صاحب کا ایک جملہ آج کل سوشل میڈیا کی زینت بنا ہوا ہے، کیا ہی اچھا ہوتا کہ یہ جملہ عزیزم احسان اللہ احسان اپنے ویڈیو پیغام کے ابتدائیے میں وہ جملہ استعمال کرتے اور ہماری قوم میں ایک نئی روح پھونک دیتے :
“میں آ گیا ہوں ، اب فکر کی کوئی بات نہیں” 
 احمد اشفاق

Leave a Comment

Urdu-speaking Muhajir politics

Journey from Urdu-speaking migrants to Muhajirs may not be difficult to understand if one analyses how politics generally has reshaped in Pakistan from a nation to nationalist and ethnic, particularly in Sindh in the last 70 years.

What went wrong with those millions of people who came to Pakistan in 1947, leaving their homes and properties behind with a strong educated and political class, perhaps, with a vision to rule and make Pakistan a strong nation?

The elite, who are in power today, addressing Sindh and its politics linked to urban Sindh, it is important to understand Muhajir’s DNA. Muhajirs also need to seriously look into the problems in their own DNA.

Those who settled in cities like Karachi, Hyderabad, Mirpurkhas and Sukkur and developed in the last seven decades, but their mistake was their failure to mould themselves as Sindhis. Political and economic clash also widened their differences and the establishment used both Sindhi and Muhajir nationalists to delink them from national politics.

Muhajir’s DNA is simple. Ideologically they are Muslim Leaguers, politically, they are liberals as evident from their role in labour, student and political movements, and the name ‘Muhajir’ as identity as a reaction to the post-70s politics. Whether it was the right decision or not, the fact remains that the making of MQM has a lot to do with the politics of religious parties in Sindh during and post-Sindhi language bill, which later gave birth to Muhajir Qaumi Movement.

Soon after the Partition, a language controversy made Urdu and Bengali a political issue, followed by constitutional crisis in the 1950s. The Muslim League leadership was also divided into Bengali and non-Bengali and laid the foundation of polarised politics.

Those Urdu speaking, who migrated from the UP or Punjab, came with brilliant minds but with typical middle class attitude. They soon dominated Pakistan’s civil service but, equally brilliant minds of Bengalis were ignored.

Few years later, the same Urdu-speaking came out with similar complaints against the predominated Punjabi establishment that it has reduced its share in power. One Unit was one of the biggest political blunders of the ruling elite or in other words of the then establishment, predominated by Punjab and Urdu-speaking civil servants.

Later on, Ayub Khan’s martial law changed the political dynamics of the country and in the post-Fatima Jinnah election, the Urdu-speaking and Bengali in particular became his target as the two cities which voted against Ayub were Dhaka and Karachi.

Had Fatima Jinnah’s elections not rigged and she would have been voted to power, the tragedy of East Pakistan might not have occurred, as Bengalis had voted for her and their leadership were quite hopeful.

Ayub’s establishment did two major things, which led to ethnic polarisation in Sindh. As a consequences to anti-One Unit movement, it felt rise of left movement from Bengal and Sindh, while the then National Awami Party (NAP), after a ban on the Communist Party of Pakistan, also gained grounds in Balochistan and the then NWFP and now Khyber-Pakhtunkhwa.

Therefore, on the one hand, it banned Sindh language in schools, an unprecedented move which not only created hatred against Ayub but also military and civilian establishment. But, then in the aftermath of his election against Fatima Jinnah, his military establishment also decided to reduce Urdu-speaking quota in civil service and shifted the federal capital from Karachi to a new city, Islamabad.

This led to the first movement against shifting of the capital and Karachi for Karachiites. Predominated by Urdu-speaking, the movement was not ethnic based and even other communities, particularly the business community, expressed their fear and concerns. This was followed by a movement, called Karachi Soba Tehreek, led by a communist leader, Mehmoodul Haq Usmani, who lost his NAP membership because of ethnic political approach.

With Urdu-speaking already angry with Ayub Khan after he defeated or allegedly rigged elections, the youth backed Zulfikar Ali Bhutto after he left Ayub’s cabinet. Another reason for their support to Bhutto was his anti-India stance, as migrants from India had come to Pakistan it was but a natural reaction.

The 1970 elections led to the division of Pakistan, as polarised mandate was a reaction to political-linguistic controversy, One Unit and economic injustice meted out to a majority. Although, the 1970 election was for the Constituent Assembly, Mujib’s six points became unacceptable to the minority. Consequently, the majority opted out, and established a new state, called Bangladesh.

When Bhutto came to power with lots of hope for the rest of Pakistan in 1972, the writing was on the wall that ethnic and nationalist politics would dominate in the aftermath of the East Pakistan crisis.

When the PPP introduced Sindhi language bill, the Urdu-speaking intelligentsia, which was politically dominated by Jamaat-e-Islami and Jamiat Ulema-e-Pakistan, turned it into a language issue, followed by ethnic riots.

All this led to the rise of Muhajir Qaumi Movement, the religious parties were wiped out, ethnic politics made inroads in Sindh and the only national party of Pakistan, the PPP, could not bridge this gap after Bhutto’s execution.

Muhajirs, who have always been seen in the country as the most educated and literate class with upright approach, fallen victim to situation, and the MQM politics, instead of working on these lines, became a reactionary force. It not only started using Urdu as a language of Muhajirs, but also portrayed themselves as 5th nationality, a separate identity. In 1988, the vote for the MQM became vote for Muhajir.

Despite unprecedented victory in local bodies and general elections, the MQM, instead of establishing schools, preparing the youth for CSS and bridging the gap with Sindhi progressive movements, indulged in activities which historically they were hardly used to. With the passage of time, they have been branded and known to the rest of the country as criminals, extortionists, targeted killers, etc. How they were armed and who used them has never been highlighted.

In 1992, when some MQM activists misbehaved with Urdu poet John Elia, just because he did not stand on the arrival of MQM leader, it was the beginning of the end to Urdu-speaking political direction.

Keeping the role of the establishment aside, which certainly used it to divide Sindh and its politics, and used it against the PPP, the fact remains that today Muhajirs may have got the identity but lost the direction. It is time to rethink and revive the actual spirit of Pakistan Day. For Urdu-speaking, it’s time for a fresh look at their political DNA.

This writer is the senior columnist and analyst of Geo, The News and Jang

Twitter: @MazharAbbasGEO

Courtesy – The News

 

 

advertisement

Comments

Comments (1)

مہوش طالبہ، منگی استانی اور اردو سندھی جھگڑا

ہم چوتھی جماعت کے ہونہار طالب علم تھے۔ اچھا چلیں اتنے ہونہار نہیں تھے۔ تھوڑے بہت تھے۔ تاریخ اور انگریزی ہمیں بہت پسند تھی۔ سائنس بھی بس کبھی کبھی اچھی لگ ہی جاتی تھی۔

جب نہیں لگتی تھی تو امی کی آواز زور سے کانوں میں گونجتی “بیٹا تم کو بڑے ہو کے ڈاکٹر بننا ہے!” اور ہم بری لگتی سائنس کو بھی سینے سے لگا لیتے۔ اگتے پھولوں کی سائنس۔ چہکتے پرندوں کی سائنس۔ ڈاکٹر بننے کے لئے سائنس کے بغیر کام نہیں چل سکتا تھا اس لئے مجبوراً سائنس سے محبت کرنی پڑ گئی۔ شکر ہے کہ یہ محبت اور مجبوری کا رشتہ سازگار بھی رہا۔ بہرحال پڑھنے لکھنے کا ہمیں شوق تھا اور ہم کافی ڈرامےباز بھی ٹھہرے تھے لہٰذا اسکول کے کئی فنکشن وغیرہ میں حصّہ بھی لیتے رہے۔ سکول کی تمام اساتذہ ہمیں بہت پسند کرتی تھیں۔ ایک ٹیچر نے پیار سے ہمارا نام ‘chatter box’ رکھا ہوا تھا۔
پھر کچھ نیک لوگوں نے ہمارے گھر آ کے بندوق تان لی اور ہماری امی جان کے جہیز کا زیور، ویڈیو ریکارڈر اور وی سی آر (جی ہاں ہم اتنے پرانے ہیں) بھی لے دوڑے۔ ابا جی بہت ڈر گئے اور گھر شفٹ کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ ہم نے روتے دھوتے سامان باندھا اور اپنی گڑیا کے ساتھ اپنا غم بانٹا۔ دوسرے سکول جانا پڑا۔ پہلا سکول کتنا پیارا تھا۔ اس میں ہر چیز انگریزی میں ہوتی تھی۔ استانیاں بھی کتنی پیاری ہوتی تھیں۔ لال لپ اسٹک لگاتی تھیں۔ اور ہماری سب دوستیں بھی انگریزی میں باتیں کرتی تھیں۔

نئے اسکول کے بچے نہ انگریزی بولتے تھے۔ نہ ہم سے پیار کرتے تھے۔ ہم نئے یونیفارم میں بالکل بدھو لگتے۔ اس بات کا ہمیں پہلے دن ہی اندازہ ہوگیا تھا جب نئی گلاس میں داخل ہوتے ہی ہمارے ساتھ کے بچوں نے ہماری بڑی بڑی آنکھوں کا مزاق اڑانا شروع کردیا۔ 10-11 سال کی ایک کمزور سی بچی جس کے بال ماتھے کو آ رہے ہوں اور چھوٹے سے منہ پہ دو بڑی بڑی آنکھیں ہوں۔۔۔ ظاہر ہے بچوں کو تو مذاق اڑانا ہی تھا۔
ہم نے بہت کڑھتے پہلا دن گزارا۔ سائنس کی کلاس اچھی گزر گئی اور انگریزی کی ٹیچر بھی پیاری نکلیں۔ البتہ ایک سبق ایسا آیا کہ جو بچی کھچی ہمت ہم نے پورے دن جمع کر کے رکھی تھی وہ چھو منتر ہوگئی۔ مس منگی کلاس میں وارد ہوئیں اور سندھی پڑھانا شروع ہوگئیں۔ سندھی پڑھنی ہوگی اب، ہم نے سوچا اور ہاتھوں کے سب اردو اور انگریزی بولنے والے طوطے اڑ گئے۔ برابر میں دیکھا تو بچیاں اور بچے ہل ہل کر ‘تنجھو نالو چھا آہے’ پڑھ رہے تھے اور ہمارا منہ ہمارے سامنے رکھے کاغذ کی طرح کورا تھا۔
مس منگی زندگی سے بہت ستائی ہوئی معلوم ہوتی تھیں۔ زندگی کا غصہ انہوں نے اپنی آنکھوں کے کاجل کے بعد یقیناً مجھ پر انڈیلنے کا فیصلہ کیا تھا۔ غراتے ہوے انہوں نے ہم سے کچھ سندھی میں پوچھا۔ ہماری آنکھوں سے آنسو نکل گئے اور مس منگی کی زندگی میں موجود پریشانیوں میں اضافہ ہوگیا۔ اسی اثنا میں ان کو اردو بھی آگئی اور انگریزی بھی۔ “یہ آج کل کی بچیاں بلا وجے روتی ہیں!”
گھر آتے ہی ہم نے اپنا فیصلہ سنانے کی ناکام کوشش شروع کر دی۔
“امی ہمیں سکول نہیں جانا۔”

“کیوں؟”

“یونیفارم کا رنگ اچھا نہیں۔”

“نیلے رنگ میں کیا برائی ہے۔”

“ہمارے پیٹ میں درد ہے۔”

“دہی کھاؤ ٹھیک ہوجائے گا۔”

“ہماری ٹیچرز کو انگریزی نہیں آتی۔”

“کوئی بات نہیں انگریزی سب کچھ نہیں ہوتی۔”
امی تو ڈکیتی کے بعد اتنی بہادر ہوگئی تھیں کہ بیٹی کی زندگی میں گزرتی قیامت ان کے لئے رائی جتنی اہمیت بھی نہیں رکھتی تھی۔ ابا جان نرم دل آدمی تھے ان سے کچھ امید بنتی نظر آئی جو ہماری یہ گفتگو غور سے سن رہے تھے۔ “کیا بات ہے؟ کیا ہوا؟” ان کے پوچھنے کی دیر تھی ہم نے رو رو کے داستان رقم کر دی۔ ابّا نے اگلے دن ہی ایڈمنسٹریٹر سے وقت مقرر کیا اور واقعے کا ذکر کیا۔ مسز خان کو بتایا گیا کہ بچی نے کبھی سندھی نہیں پڑھی اس پہ پریشر نہ ڈالا جائے۔ مسز خان نے یقین دہانی کروائی کہ مسز منگی کو سمجھایا جائے گا۔ مگر جونہی ابا جی کے ساتھ ہم سینہ ٹھوکتے ہوے آفس سے باہر آئے مس منگی دور کھڑی ہمیں ایسی نظروں سے دیکھ رہی تھیں جیسے ہم نے ان کے گھر کا پانی بند کروا دیا ہوا۔ اگلے دن کلاس میں جو ہمارے ساتھ ہوا ہم نہیں لکھ سکتے۔ اس کی دو وجوہات ہیں۔ اول تو یہ کہ ہم پھر رو دیں گے۔ اور دوم یہ کہ آخر ہماری بھی کچھ عزت ہے۔
پھر ہماری ایک کمبخت کزن نے ہمیں مشورہ دیا کہ الله میاں سے دعا کرو، کہ تم بیمار پڑ جاؤ۔ پھر سکول سے فوراً چھٹکارا مل جائے گا۔ ہم نے جان لگا دی اور الله میاں سے وعدہ کر لیا کہ اگر الله نے کوئی اچھی سی بیماری دے دی تو یقیناً ہم محلے کی بلی کو دو پلیٹ دودھ دیں گے۔ الله نے ہماری سن لی اور ہمیں یرقان ہوگیا۔ سخت، زہریلا، جسم کو پگھلا دینے والا یرقان۔ اماں ابّا پریشان تھے اور ہم دل ہی دل میں خوشی کے مارے لڈیاں ڈال رہے تھے۔ سارا دن گھر میں ٹام اینڈ جیری دیکھتے۔ اور دن میں دو گھنٹے انگریزی پڑھتے۔ ہاں کھانے پینے کی دقت ہوتی مگر مس منگی سے جان چھوٹنے کے لئے یہ قیمت کچھ بھی نہیں تھی۔
ڈاکٹر حیران پریشان رہے کے بچی ٹھیک کیوں نہیں ہوتی۔ مہینوں گزر گئے۔ کبھی یرقان بڑھتا کبھی کم ہوتا۔ مگر ہم مکمل طور پہ صحت یاب نہ ہو پاتے۔ بھائی دنیا والوں کو کیا پتہ ہم نے الله میاں سے زبردست ڈیل کی ہوئی تھی۔ بلی کے بھی وارے نیارے تھے۔
تقریباًایک سال بعد جب امتحنات کا وقت آیا تو ہم نے بیماری سے اٹھتے ہی تمام پیپر دے ڈالے۔ رپورٹ کارڈ آیا اور کیا ہی عجیب رپورٹ کارڈ آیا۔ ہر سبق میں 90 سے اوپر نمبر۔ اور سندھی میں فیل۔ 40 بچوں کی کلاس میں 18ویں نمبر پہ آئے۔ نکمے ہوتے تو جشن مناتے۔ قابل تھے اس لئے دس دن روئے۔
کئی دن تک روتے رہے۔ اماں جان نے تو زیادہ ہمدردی نہ دکھائی البتہ ابا نے فیصلہ کیا کہ چاہے کتنا دور پڑے بیٹی کو اس کے پرانے سکول لے جائیں گے۔ پرانے سکول جاتے ہی بیماریاں بھی غرق ہوگئیں اور غم بھی۔ مزے سے او لیول کی تیاریاں اور خواب شروع ہوگئے۔ چھٹی، ساتویں اور جب آٹھویں جماعت میں آئے تو اچھے نمبر لیتے رہے۔ پھر ڈیفنس ہاوسنگ اتھارٹی والوں نے ہمارا اسکول بند کر دیا اور عین او لیول/نویں جماعت کے اڈمیشن کے وقت نوٹس جاری کر دیا گیا کہ سکول رہائشی علاقے میں ہے اسے بند کر دیا جائے۔ نجانے ڈی ایچ اے والوں کو پندرہ سال سے یہ خیال کیوں نہ آیا۔ ہماری نویں کلاس کے وقت ہی آیا۔ بہر حال ہمیں اسکول بدلنا پڑا اور لوگوں نے مشورہ دیا اب وقت نہیں ہے دوبارہ سیٹل ہونے کا، تم میٹرک ہی کر لو۔ ہم نے ایڈمشن لے لیا۔ خوب محنت کی۔ ہماری اردو اور انگریزی اچھی تھی اور سائنس سے تقریباً محبت پوری ہوگئی تھی۔ مگر ہم ایک وجہ سے پھر حواس باختہ ہو کر رہ گیے۔ سندھی پھر ہمارے گلے پڑ گئی۔
استاد نے پہلا صفحہ کھولا اور ہماری آنکھوں کے آگے ستارے چھا گئے۔ اتنے سارے نقطے۔ شاعری سمجھنے کی کوشش کی۔ تھوڑی بہت خوبصورت لگی۔ مگر باقی تو مکمل دل و دماغ کے آر پار ہوگئی۔ پرچہ بہت مشکلوں سے دیا۔ ہم نے ڈاکٹر بننا تھا۔ اچھے کالج میں ایڈمیشن لینا تھا۔ سندھی کے نقطوں تلے تمام خواب چکنا چور ہوگئے۔ رزلٹ آیا تو وہی ہوا جو چوتھی جماعت میں ہوا۔ ہر چیز میں اچھے نمبر۔ سوائے سندھی کے۔ اچھے کالج کے ایڈمیشن کا خواب تو ہاتھ سے گیا ہی۔ ساتھ ہی ساتھ اپنی بےبسی اور بدقسمتی پہ رونا بھی آیا۔
معروف کالم نگار ندیم فاروق پراچہ نے ایک طویل اور تفصیلی کالم میں سندھ کی تاریخ، پاکستان اور تقسیم ہند کے حوالے بیان کی ہے۔ پراچہ لکھتے ہیں کہ جب پنجاب کٹ رہا تھا تب سندھ میں شانتی تھی۔ سندھ کی زمین پر امن اور رواداری رہی۔ یہاں اسلام بھی صوفی رنگ میں ڈھلا، دھمال اور شاعری کا امتزاج تھا۔ جب کہ اردو بولنے والے جب اس خطے میں وارد ہوئے تو اپنے ساتھ ایک رسومات اور احکمات کی پوٹلی لے کر آئے۔ اسلام کو سخت اور مشکل بنا دیا۔ صوفی رنگ کو بدعت اور خلاف شریعت بھی کہا جانے لگا۔ تقسیم ہند کے بعد بہت سے سندھی ہندو پاکستان چھوڑ کے ہندوستان چلے گنے۔ پاکستان میں ‘ہم سب مسلمان ہیں اور ہم سب پاکستانی ہیں’ کی ایمرجنسی نافذ ہوگئی تھی۔ ان حالات میں نہ سندھی کی بقاء تھی نہ ہی کسی ہندو کی۔
1972 میں ذوالفقار علی بھٹو کا لایا ہوا یہ بل جس کی وجہ سے سندھی زبان لازمی قرار دے دی گئی، مجھ جیسے کئی بچوں کے میرٹ کے گلے پڑ گیا۔ مزید یہ کہ سندھی زبان کو کئی سکولوں میں ضروری بھی قرار دیا گیا۔ ہندو پاک میں تعصب کی یہ دوڑ انگریز نے نجانے کب شروع کی اور نجانے یہ کب ختم ہوگی۔ اور نجانے کتنے بچے اپنے گریڈ سے، نجانے کتنے نوجوان اپنی نوکریوں سے اور کتنے معصوم اپنی جانوں سے جائیں گے۔ چاہے وہ جی ایم سید ہوں یا سر سید احمد خان، فکری تفرقے کی پہلی جڑ ڈھونڈنا شاید مشکل ہے، لیکن ایسی جنگوں میں عموماً ہار عام آدمی کی ہی ہوتی ہے۔ فسادات میں غریب کی ریڑھی جلتی ہے، امیر کا قلعہ سلامت رہتا ہے۔ غریب کے بچے کا ایڈمیشن گورنمنٹ کالج میں نہ ہو تو وہ کلرک بھرتی ہونے پہ مجبور ہو جاتا ہے۔ امیر کا بچہ تو سفارش سے منسٹر لگ جاتا ہے۔ نفرتوں میں دل ٹوٹ جاتے ہیں اور نفرتوں کے بیوپار کرنے والوں کی تجوریاں مضبوط سے مضبوط ہوتی چلی جاتی ہیں۔
آج پاکستان میں پھر مردم شماری ہونے والی ہے۔ ہر طرف ہر طرح کی ہلچل ہے۔ سب کو ڈر ہے۔ ہر کسی کو اپنا حصہ برقرار رکھنا ہے اس ٹوٹے پھوٹے زمین کے خطے سے۔ سمجھ میں بس یہ نہیں آتا کہ اگر ہم سب ایک ہیں۔ اگر ہم سب سکون سے جینے کے لئے ہندوستان سے الگ ہوئے تھے۔ اگر پاکستان ہر انسان کو امن اور چین سے جینے دینے کا نام تھا – تو یہ مقصد کدھر غرق ہوگیا؟ یہ منزل کدھر چلی گئی؟
آج بھی اردو بولنے والوں کو دھرتی کا بیٹا نہیں مانا جاتا۔ الفاظ اور حالات بدلتے رہیں شاید۔ کل بھٹو تھا، پھر الطاف حسین کا زمانہ تھا، جی ایم سید کی تحریک تھی، آج بلاول ہیں، سوشل میڈیا کا زمانہ ہے، مگر تعصب کا رنگ وہی ہے۔ کوئی اردو بولنے والوں کو پناہ گزین کہتا ہے کوئی مکڑ۔ کوئی کہتا ہے کہ سندھی بن جاؤ اور کوئی کہتا ہے مہاجر بننا چھوڑ دو۔ مگر کوئی اس بات کا جواب نہیں دیتا کہ اس چوتھی جماعت کی بچی کا کیا قصور تھا کہ اس کو وہ زبان پڑھنی پڑ گئی جو نہ اس کے گھر میں بولی جاتی ہے اور نہ اس نے کبھی دوبارہ بولی۔ دنیا بھر میں ایک زبان (انگریزی) کے علاوہ تمام زبانیں اختیاری ہیں۔ یہاں تک کہ پاکستان میں بھی صرف سندھ وہ صوبہ ہے جہاں سندھی ضروری ہے۔ میٹرک میں اچھے بھلے طالب علم کے ساتھ یہ کیا زیادتی ہے کہ اس پہ زبردستی ایک ایسی زبان مسلط کی جائے کہ وہ اپنے روشن مستقبل سے محروم ہو جائے؟ اور اب مردم شماری میں کہا جا رہا ہے کہ صوبے سے وفاداری ثابت کرنے کے لئے اپنے آپ کو سندھی لکھا جائے۔
اگر ہمیں اپنا لیا گیا ہے، تو ہمیں بدلنا ضروری کیوں ہے؟ ہم موجودہ حال میں لوگوں کو قبول کیوں نہیں؟ اگر ہم سب پاکستانی ہیں تو ہماری زبان ایک کیوں نہیں؟ ہم سب کی زبانیں مختلف کیوں ہیں؟ ہم سب کو ایک تصویر کامل کی طرح کیوں دیکھتے ہیں؟ قدرت نے ہر شخص کو الگ اور منفرد پیدا کیا ہے۔ اور کیا سندھی بولنے والوں کو یہ بات گراں نہ گزرے گی اگر ان سے کہا جائے کہ ان سے سندھی ہونے کے حق چھین لیا جائے گا؟
معروف شخصیت مایا انجیلو کا کہنا ہے۔ “لوگوں نے آپ کو کیا کہا، یہ آپ بھول سکتے ہیں۔ مگر لوگوں نے آپ کو کیسا محسوس کروایا۔۔۔ یہ آپ کبھی نہیں بھولتے۔” کبھی کبھی سوچتی ہوں مس منگی کو میں یاد بھی ہوں گی یا نہیں۔ وہ بڑی بڑی آنکھوں والی روتی ہوئی لڑکی۔ جس کو سندھی نہیں آتی تھی۔ شاید نہیں۔ مگر وہ مجھے ہمیشہ یاد رہیں گی۔ انہوں نے ہمیشہ مجھے کمتر ہونے کا احساس دلایا تھا۔ ایک نے نئے اسکول میں ایک بچی کو یہ بتلایا تھا کہ چونکہ وہ ان کی زبان نہیں بولتی، اس لئے وہ ان سے الگ ہے۔ فرنگی ہے۔ ہاں، میں ان کی باتیں کافی حد تک بھول گئی ہوں۔ مگر ان کا دلایا ہوا غیر ہونے کا احساس ہمیشہ میرے سینے میں دفن رہے گا۔

Leave a Comment

My name is IMRAN & i am an IDIOT

The country has seen numerous idiots making it to the mainstream, be it actresses like Mathira or late Qandeel, anchors like Kiran Aftab or Neelam Aslam, Singers like Taher Shah or Rabi Pirzada , entertainers like Amir Liaquat or Bilal Qutub, politicians like Talal Chaudhry, Naeem ul Haq or Danial Aziz and pseudo journalists like Meher Abbasi or Mubashir Lucman. Its unfortunate to say so that an ex cricketer has earned a towering name in being an idiot and has some how made it to the mainstream politics.He ridicules everyone but ridicules him self more than anyone else.

All these people,with all their dumbness and idiocy combined cannot match even half the idiocy ,impatience, senselessness ,immaturity, stupidity and absurdity of The Great Imran Khan !! 
Just today,this idiot appears on our television screens and starts criticizing the judiciary on a sub judice matter,not only does he raise questions but also tries to dictate the judiciary on what should be done.This is the finest example of a dictatorial attitude. Imagine what this drug addict would do when he comes into power. He wants control over the judiciary too, I mean seriously ? 
Just when his people needed him the most and he should have been with them on the roads , he was having fun in his house with his party leadership. His workers were being arrested, beaten and tortured throughout the day. He kept quite for the entire day and appeared on TV at around 5pm. He spoke to the media , cursed Nawaz and his administration,dictated the honorable judges, refused to join Shaikh Rahseed’s gathering and said that we are looking forward to Nov the 2nd, that’s when we will demonstrate our strength. It looks more like a plan and he looks more like a party to it.
When a female reporter from Geo , told him about how his men treated her and slapped the cameraman, he was laughing at her helplessness and told her to raise their reporting standards. He meant that if you don’t report in my favor and if you fail to project me as a real leader, you’d see the consequences. Isn’t it an indication that his tigers may turn violent if ordered? and we all know how his tigers treat women, perhaps they follow the leader in every walk of life.
Imran, knows that he will be rejected in the coming elections and that is why he cannot wait for it and wants some backdoor solution where he could come into power and throw this current regime away. He wants people to be detained and killed. Just a few days ago he said that I will try to contain the amount of casualties during our movement, it is evident that he doesn’t mind people getting killed, he rather wants it. And you still consider him a leader , a Savior ??? I consider it to be the height of idiocy and this man as the greatest idiot this world has ever seen. 
The most incompetent, corrupt, sluggish and inefficient government is that of Nawaz Sharif, but trust me if this drug addict comes into power you’d start comparing him with Pharaoh, Namrood and the rest of the worst rulers !!! Trust me Nawaz Sharif is a lesser of an evil as compared to this maniac !!!
Ahmed Ashfaq.

Leave a Comment

Older Posts »