Sir Virat Kohli 

When you chemically combine the off side range of Sanath Jayasuria and Sachin Tendulkar , the mid wicket range of Chris Gayle and Shahid Afridi, the all round shots range of Rahul Dravid, the temperament of Brian Lara and Ricky Ponting, the class of Steve Waugh and Shiv Chanderpaul, the placement of VVS Laxman and Inzamam Ul Haq , the aggression of Matthew Hayden and AB Divilliers , the persistence of Sangakara and Jayawardena, the abilities of Jacques Kallis and Younis Khan , the calmness of MS Dhoni and Misbah Ul Haq and the shot control of Hashim Amla, Steven Smith and Kane Williamson, you end up getting SIR VIRAT KOHLI !!!

All the modern greats combined cannot even touch 50% of the class this man has shown. I seriously wonder if I will ever be able to watch a better batsman play this beautiful game of cricket.
Ahmed Ashfaq.

Advertisements

Leave a Comment

The Legend… Amir Zaki 

It was 2005 I alongwith a group of friends went to visit NAPA, Khi. While we walked inside a BMW entered through the gates. It was AmirZaki

We all were awe struck of AmirZaki‘s personality, he had something! We all gathered for autograph and he happily agreed.

Yesterday AmirZaki‘s death news came as a shock to me, but more shocking was and is to see how now people are cashing his name.

Most of the music fraternity, critics, his friends, etc knew AmirZaki was suffering from depression, needs financial help …

While most of them chose to write about him and his sad state once after it was over for him… why is everyone remembering AmirZaki now?

Why they couldn’t raise their voices for him before? If writing articles abt him now and exposing his reality to the world is now important to you? Why did you remain silent before? Why couldn’t the industry help him before he was gone?

“Ab sab ko yaad agaya hai kay AmirZaki legend thay

Most of you now are cashing in the name AmirZaki was, after his death… showing how a piece of him you knew, you had… for your own gains.
Written by Aisha (@HariMirchein)

Leave a Comment

مشرف کا کرشمہ ـ ـ ـ الطاف کا نظریہ ــــــــ احمد اشفاق

نظریہ ضرورت جن لوگوں کے کام آتا ہے وہ ہر شے کو اپنی ضرورت کے حساب سے تولنے لگتے ہیں – جنرل پرویز مشرف صاحب کو تو آپ جانتے ہی ہیں ، جنرل صاحب ضروریات کے تحت لوگوں کو استعمال کرنے سے اچھی طرح واقف ہیں– افغان جنگ کے دوران اپنی ضرورت اور امریکا کو بلیک میل کرنے کے لئے سرحد میں ایم ایم اے کی حکومت بنوائی ، اپنی ضرورت کی خاطر شوکت عزیز کو امپورٹ کیا ، اپنے مقاصد کے حصول کے لئے پیپلز پارٹی کا فارورڈ بلاک بنایا ، اور اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے ایم کیو ایم کو استعمال کرتے رہے —

جنرل صاحب خوش فہمیوں کا شکار بھی رہتے ہیں ، فیس بک پر ٢ لاکھ فالورز ہو گئے تو انھیں لگا کہ وہ الیکشن جیت جائیں گے اور وہ پاکستان آ گئے ، یہ اور بات کہ ایئر پورٹ پر انھیں لینے ٢ درجن لوگ ہی آئے یہ بھی موضوع نہیں کہ کس طرح جناب عدالت میں پسینے بہاتے رہے اور پھر بھلا ہو اس دل کا جس میں درد ہوا اور ان کے جانے کی سبیل بنی اور سلامت رہے وہ  کمر جو یہاں درد کا شکار تھی لیکن دبئی میں مٹکتی رہی اور اسی کمر نے ان کے جانے کی راہ ہموار کی —  ایم کیو ایم زیرعتاب آئی تو انھیں لگا کہ ان کی لاٹری لگ جائے گی اور مہاجر انھیں اپنا سر پرست اعلی مان لیں گے — 

ہمیشہ کی طرح آج بھی وہ چاہتے ہیں کہ تمام لوگ ان کی ضروریات پوری کریں ، لیکن آج وہ اس ضرورت کو باہمی سمجھتے ہیں…. اب کی بار مشرف صاحب کو یہ غلط فہمی   ہے کہ مہاجروں کو ان کی زیادہ  ضرورت ہے—- ان کی شدید ترین خواہش ہے کہ وہ ایم کیو ایم کے مینڈیٹ کو اپنی جیب میں رکھتے ہوئے اے پی ایم ایل کی سرگرمیاں بحال کریں- کم از کم ان کے پاس ایک ایسی جماعت تو ہوگی جو عوامی طاقت رکھتی ہو— اس کے لئے وہ اپنی “کرشمہ ساز” شخصیت پیش کرتے ہیں ، اپنا نام نہیں لیتے لیکن سب کچھ کہہ جاتے ہیں — فرماتے ہیں کہ الطاف حسین کے بعد مہاجروں کے پاس ایسی کوئی کیرزمیٹک (کرشمہ ساز) شخصیت نہیں جو انھیں جوڑ کے رکھ سکے —
جنرل صاحب کہتے ہیں کہ ان کے دور میں کراچی کا نقشہ بدل گیا ، ہم اسے تسلیم کرتے ہیں لیکن ہمیں وہ آدمی بحیثیت لیڈر قبول ہے جس نے جنرل مشرف کو کراچی کا نقشہ بدلنے کیلئے مصطفیٰ کمال دیا ، وہ مشرف قبول نہیں جس نے مصطفیٰ کمال کو کام کرنے کے لئے  پیسے دیے—- جنرل صاحب کو یہ سمجھنا ہوگا کہ مہاجروں کو نظریہ ضرورت کی گود میں بیٹھا کوئی آمر نہیں بلکہ  ان کے حقوق کے تحفظ کا نظریہ دینے والا قبول ہے— ہمارے لئے کرشمہ ساز وہ ہستی ہے جس نے ہمیں ایک کیا ہے ، جس نے ایک بدترین فوجی آپریشن کے بعد آپ جیسے آمر کو بھی مجبور کیا کہ ہم سے بات کی جائے– ہم غیرتمند لوگ ہیں ہم ایک آدمی کی جدوجہد کو یوں کسی کی جھولی میں نہیں ڈال سکتے–آپ کے خیر خواہ کتنا ہی زور لگا لیں ، چاہے کتنی ہی محنت کرلیں لیکن ہم نہیں جھکیں گے… ہم انتظار کر لیں گے ، عذاب سہہ لیں گے، جبر برداشت کر لیں گے لیکن آپ کو مسیحا تسلیم نہیں کریں گے– ہم آپ کا احترام کرتے ہیں لیکن اگر آپ ہمارے سر پر مسلط ہونا چاہتے ہیں تو انتہائی معذرت آپ کوئی اور مہم جوئی کیجئے ، ہم با شعور اور با وفا لوگ ہیں–  ہماری نفسیات  “نان ہے تو جہان ہے” والی نہیں …ہم قیمے والے نان پہ ووٹ نہیں دیتے نہ ہی ہم وہ لوگ نہیں جنھیں جہان جی چاہا ہانک دیا—- نون نہیں تو قاف سہی، قاف نہیں تو انصاف سہی —
اگر آپ ظرف رکھتے ہیں تو دنیا کو آ کر بتائیں کہ ایم کیو ایم اور الطاف حسین را کے ایجنٹ نہیں ہیں ، یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ١٠ سال افواج پاکستان کا ساتھ دیا ، اگر یہ را ایجنٹ ہیں تو یہ بحیثت آرمی چیف آپ کے اوپر بھی ایک سوالیہ نشان ہے ، آپ اتنی آسانی سے دامن نہیں بچا سکتے ، اتنی آسانی سے مہاجروں کی سرپرستی کے خواب نہیں بن سکتے … آپ کو جواب بھی دینا ہوگا اور اگر یہ را ایجنٹ ہیں تو ان کا ساتھ دینے کا حساب بھی دینا ہوگا— اگر الطاف حسین کے لئے راستہ دشوار ہے تو اتنا آسان سفر آپ کے لئے بھی نہیں ہوگا— ان مہاجروں نے ہندوستان سے پاکستان لے لیا تھا آپ سے جواب و حساب تو بہت آسانی سے لے لیں گے !
آپ کو اپنا تمام تر کرشمہ اور تجربہ مبارک ، آپ اپنا کرشمہ رکھ لیجئے ہم اپنا نظریہ رکھ لیتے ہیں— ہمیں منزل کے نشاں دکھانے والا رہنما زیادہ عزیز ہے ، ہمیں اسی کی رہنمائی درکار ہے– ہمارا رہبر و رہنما ایک ہی ہے اور وہی ہمیں منزل تک لے جائے گا ،ہم خاندانی لوگ ہیں جسے دل میں بسا لیں اسے کسی کے کرشمے سے متاثر ہو کر یا حالات سے ڈر کر دل سے نکالا نہیں کرتے   — ہمارے بارے میں تو صدیوں پہلے نظیر اکبرآبادی کہہ گئے تھے :   :  
ترے مریض کو اے جاں شفا سے کیا مطلب وہ 

خوش ہے درد میں اس کو دوا سے کیا مطلب جو 

اپنے یار کے جور و جفا میں ہیں مسرور 

انہیں پھر اور کے مہر و وفا سے کیا مطلب 

فقط جو ذات کے ہیں دل سے چاہنے والے

انہیں کرشمہ و ناز و ادا سے کیا مطلب
#_احمد_اشفاق

Leave a Comment

کمال ہی کمال ہے – احمد اشفاق

کمال ہی کمال ہے کا نعرہ اگر کسی کی ذات پر جچتا ہے تو وہ مصطفیٰ کمال نہیں ہیں — اہل سیاست کو ایسے نعروں سے اجتناب کرنا چاہیے، ایسے نعرے اہل علم پر جچتے ہیں، جو زیادہ باکمال ہو نعرہ بھی اسی کا گونجے— جو شخصیت اس نعرے کے ساتھ انصاف کر سکتی ہے وہ حضرت مدثر کمال صاحب ہیں —

معاشیات کے ماہر، گورمنٹ پریمیئر کالج کے سابقہ پرنسپل اور ایک عظیم استاد– ہماری کتنی بدنصیبی ہے کہ ہم ان شخصیات سے واقف نہیں ہیں جنہوں نے اصل میں اس معاشرے میں ایک مثبت کردار ادا کیا ہے ، جنہوں نے تعلیم کو زیور جانا ہے اور اس کے لئے زندگی وقف کر دی– میں اس بات کا شاہد ہوں کہ مدثر صاحب نے اپنے وقت اور تعلیم پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا، انہوں نے اپنا کام بھی بھرپور لگن سے کیا اور دوسروں سے بھی کام لے کر دکھایا–  چاہے کلاس میں ایک بچہ ہی کیوں نہ رہا ہو انہوں نے کلاس لی اور مکمل دیانت داری سے لی — نہ وہ جمیعت کی غنڈہ گردی کو خاطر میں لاۓ اور نہ اے پی ایم ایس او کی بدمعاشی سے مرعوب ہوئے —
حضرت کے بارے میں جلد اپنی یاداشت کے سہارے ایک تفصیلی تحریر مرتب کروں گا، لیکن جانتا ہوں کہ آپ کی ذات کے ساتھ ایک فیصد بھی انصاف نہ کر پاؤں گا — تب تک آپ ان کی صحت کے لئے دعا گو رہیے اور میرے ساتھ یہ نعرہ لگائیے :
“کمال ہی کمال ہے ، مدثر کمال ہے”—

احمد اشفاق

Leave a Comment

صحافی اور ٹویٹر پولز 

ایک تو میں ان صحافیوں کے ٹویٹر پولز سے تنگ آ چکا ہوں — آپ کے خیال میں کون سی جماعت کراچی کی سیاسی خلا پر کر سکتی ہے ؟ آپ کے خیال میں اگلے الیکشن میں کس کی اکثریت ہوگی ؟ آپ کے خیال میں کون سی جماعت کراچی کے عوام کی حمایت حاصل کرے گی ؟ آپ کے خیال میں کراچی کی نمائندہ جماعت کونسی ہے ؟

اتنے فضول سوالات پوچھ کر اپنا اور دوسروں کا وقت برباد نہ کریں ، شہر جسے پوجتا ہے اس پر تو ہر طرح کی پابندی ہے، ہر قسم کے ہتھکنڈے استعمال کر کے اسے دیوار سے لگا کر ایسے سوال کیوں پوچھیں جائیں؟   پوچھنا ہی ہے تو یہ پوچھیں کہ اگر حالات ایسے ہی رہے تو اگلے انتخابات میں کون سا گدھ گوشت کا بڑا حصّہ ہتھیانے میں کامیاب ہوگا ؟؟؟؟ یا یہ پوچھیں کہ اگر الطاف حسین الیکشن لڑتے ہیں تو کون سی جماعت دوسرے نمبر پر آئے گی ؟ یا کس کس کی ضمانت ضبط ہوگی؟ یا یہ پوچھیں کہ آپ کے خیال میں تمام جماعتیں مل کر بھی الطاف حسین کے خلاف لڑیں تو کیا اپنی ضمانت بچا پائیں گی ؟؟  یہ ہیں حقیقت پر مبنی سوالات اور زمینی حقائق  !

احمداشفاق 

Leave a Comment

مان میرا احسان ارے نادان

_مان_میرا_احسان__ارے_نادان

انسان جہاں جاگ اٹھے ، وہیں  سویرا ہے ، اگر احسان اللہ احسان خواب غفلت سے ذرا دیر میں جاگے تو کیا ہوا ؟ یہی کیا کم ہے کہ ہمارے کسی غیور فوجی جوان کی گولی کھانے سے پہلے جاگ اٹھے — غفلت کی نیند سے جاگ جانا ابدی نیند سونے سے تو بہتر ہی ہے !

تو کیا ہوا اگر وہ ہمارے ساٹھ ہزار شہری مار کر جاگے ؟ ہمارے فوجیوں کے گلے کاٹ کر جاگے ؟ لاشوں کو قبر سے نکال کر درختوں پر ٹانگ کر جاگے ؟ ان گنت بم دھماکوں میں سینکڑوں شہریوں کے چیتھڑے اڑا کر جاگے ؟ سکولوں میں علم کی شمع بجھا کر جاگے – مزاروں پر دھماکے کر کے بیدار ہوئے — شیعوں کا قتل عام کر کے آنکھ کھولی —– عیسائیوں کو گولی سے بھون کر اٹھے یا رنگ مذہب کی تفریق کیے بغیر جانوروں کی  طرح انسانوں کو ذبح کر کے جاگے !! آخر جاگ تو گئے !!

کیا فرق پڑتا ہے اگر انھیں اس بات کا ادراک بہت دیر میں ہوا کہ طالبان بیرونی  ایجنڈے پر کاربند ہیں ، بھارت اور افغانستان کے ہاتھوں استعمال ہو رہے ہیں — ہمیں تو اس بات پر مسرت ہونی چاہیے کہ حضور کو آج یہ احساس ہو گیا کہ پاک فوج مرتد نہیں بلکہ مجاہد ہے —- یہ بحث بھی غیر ضروری ہے کہ ان کو ١٠ سال تک بھتے لینے میں ، اغوا برائے تاوان کرنے میں یا قتل و غارت مچانے میں کوئی عار کیوں نہ محسوس ہوئی ، انھیں اتنے عرصے بعد کیونکر لگا کہ یہ کام غیر قانونی ، غیر اسلامی ہیں اور ایسا کر کے وہ  کفار کی خدمت کر رہے ہیں —

 آپ ان باتوں میں وقت نہ برباد کیجئے ….آپ ایک سچے لیکن بہکے ہوئے ناراض مجاہد کی پہچان دیکھیے کہ وہ اپنے ہی ملک میں قتل عام کرتا رہا ، بے گناہوں کو خون میں نہلاتا رہا ، ریاست کو للکارتا رہا ، معصوموں کے لہو سے ہولی کھیلتا رہا  اور اسے سو فیصد جائز بھی سمجھتا رہا—-  لیکن جیسے ہی اس کے سامنے اسرائیل کا نام آیا اوراسرائیل کی حمایت و تائید کی بات ہوئی ، فوری طور پہ اس مجاہد کو یہ احساس ہو گیا کہ میاں، یہاں دال میں کچھ کالا ہے ، پوری پاکستانی قوم میری دشمن ہو سکتی ہے مگر اسرائیل میرا دوست نہیں ہو سکتا ! حضرت احسان کے ساتھ بھی تو ایسا ہی ہوا اور ذرا دیکھیے کتنے اچھے وقت پر ہوا  !!!

آپ ایسا ہرگز نہ سوچیے کہ احسان اللہ احسان صاحب کے نزدیک اسلام کی تشریح وہی ہے جو طالبان کرتے ہیں— وہ تو آج اپنے پیغام میں واضح طور پر کہہ  رہے ہیں کہ طالبان نے اسلام کی غلط تشریح کر کے نوجوان نسل کو گمراہ کیا، اور طالبان قیادت صرف اپنے مفاد کے لئے سرگرم عمل ہے   —اصل میں احسان صاحب کے دل میں تو ایمان کی شمع روشن تھی لیکن ہماری بے اعتنائی کی ہوا اسے بجھاتی رہی اور اس میں  کچھ کوتاہیاں ہماری بھی ہیں ، ہم نے اگر عمران خان صاحب کی بات مانی ہوتی اور طالبان کو دفتر فراہم کیا ہوتا تو آج احسان اللہ احسان ہی نہیں تمام تر طالبان قیادت تائب ہو چکی ہوتی — منور حسن چیختے رہے کہ طالبان شہید ہیں ، ان کا امیر شہید ہے، مگر ہم نہ مانے ، اور یہی روش ہمارے ‘ناراض بھائیوں’ کی ناراضگی کو مزید بڑھاوا دیتی رہی — شکر منائیے ، مٹھائیاں تقسیم کیجئے ، نوافل ادا کیجئے کہ حضرت احسان اللہ احسان نے اپنی ناراضگی ختم کر دی ہے ! احسان بھائی بھی تو یہی کہتے ہوں گے کہ ” مان میرا احسان ، ارے نادان کہ میں نے چھوڑ دیے طالبان”—-

احسان صاحب کے راہ راست پر آ جانے کے بعد ہمیں یہ امید کرنی چاہیے کہ حالات بہتر ہوں گے ، آھستہ آھستہ سب شر پسند ‘ناراض’ عناصر قومی دھارے میں آتے جائیں گے — خود کش دھماکے ختم ہوں گے ، فرقہ واریت کا خاتمہ ہوگا ، فاٹا سے لے کر کراچی تک امن و سلامتی ہوگی — ہندوستان اور افغانستان کی مشترکہ سازشوں کا خاتمہ ہوگا ، ہماری قوم کو ایک متبادل بیانیہ فراہم کر دیا جائے گا جو آئندہ دس پندرہ برس کے لئے کافی ہوگا ——

احمد لدھیانوی صاحب کا ایک جملہ آج کل سوشل میڈیا کی زینت بنا ہوا ہے، کیا ہی اچھا ہوتا کہ یہ جملہ عزیزم احسان اللہ احسان اپنے ویڈیو پیغام کے ابتدائیے میں وہ جملہ استعمال کرتے اور ہماری قوم میں ایک نئی روح پھونک دیتے :
“میں آ گیا ہوں ، اب فکر کی کوئی بات نہیں” 
 احمد اشفاق

Leave a Comment

Urdu-speaking Muhajir politics

Journey from Urdu-speaking migrants to Muhajirs may not be difficult to understand if one analyses how politics generally has reshaped in Pakistan from a nation to nationalist and ethnic, particularly in Sindh in the last 70 years.

What went wrong with those millions of people who came to Pakistan in 1947, leaving their homes and properties behind with a strong educated and political class, perhaps, with a vision to rule and make Pakistan a strong nation?

The elite, who are in power today, addressing Sindh and its politics linked to urban Sindh, it is important to understand Muhajir’s DNA. Muhajirs also need to seriously look into the problems in their own DNA.

Those who settled in cities like Karachi, Hyderabad, Mirpurkhas and Sukkur and developed in the last seven decades, but their mistake was their failure to mould themselves as Sindhis. Political and economic clash also widened their differences and the establishment used both Sindhi and Muhajir nationalists to delink them from national politics.

Muhajir’s DNA is simple. Ideologically they are Muslim Leaguers, politically, they are liberals as evident from their role in labour, student and political movements, and the name ‘Muhajir’ as identity as a reaction to the post-70s politics. Whether it was the right decision or not, the fact remains that the making of MQM has a lot to do with the politics of religious parties in Sindh during and post-Sindhi language bill, which later gave birth to Muhajir Qaumi Movement.

Soon after the Partition, a language controversy made Urdu and Bengali a political issue, followed by constitutional crisis in the 1950s. The Muslim League leadership was also divided into Bengali and non-Bengali and laid the foundation of polarised politics.

Those Urdu speaking, who migrated from the UP or Punjab, came with brilliant minds but with typical middle class attitude. They soon dominated Pakistan’s civil service but, equally brilliant minds of Bengalis were ignored.

Few years later, the same Urdu-speaking came out with similar complaints against the predominated Punjabi establishment that it has reduced its share in power. One Unit was one of the biggest political blunders of the ruling elite or in other words of the then establishment, predominated by Punjab and Urdu-speaking civil servants.

Later on, Ayub Khan’s martial law changed the political dynamics of the country and in the post-Fatima Jinnah election, the Urdu-speaking and Bengali in particular became his target as the two cities which voted against Ayub were Dhaka and Karachi.

Had Fatima Jinnah’s elections not rigged and she would have been voted to power, the tragedy of East Pakistan might not have occurred, as Bengalis had voted for her and their leadership were quite hopeful.

Ayub’s establishment did two major things, which led to ethnic polarisation in Sindh. As a consequences to anti-One Unit movement, it felt rise of left movement from Bengal and Sindh, while the then National Awami Party (NAP), after a ban on the Communist Party of Pakistan, also gained grounds in Balochistan and the then NWFP and now Khyber-Pakhtunkhwa.

Therefore, on the one hand, it banned Sindh language in schools, an unprecedented move which not only created hatred against Ayub but also military and civilian establishment. But, then in the aftermath of his election against Fatima Jinnah, his military establishment also decided to reduce Urdu-speaking quota in civil service and shifted the federal capital from Karachi to a new city, Islamabad.

This led to the first movement against shifting of the capital and Karachi for Karachiites. Predominated by Urdu-speaking, the movement was not ethnic based and even other communities, particularly the business community, expressed their fear and concerns. This was followed by a movement, called Karachi Soba Tehreek, led by a communist leader, Mehmoodul Haq Usmani, who lost his NAP membership because of ethnic political approach.

With Urdu-speaking already angry with Ayub Khan after he defeated or allegedly rigged elections, the youth backed Zulfikar Ali Bhutto after he left Ayub’s cabinet. Another reason for their support to Bhutto was his anti-India stance, as migrants from India had come to Pakistan it was but a natural reaction.

The 1970 elections led to the division of Pakistan, as polarised mandate was a reaction to political-linguistic controversy, One Unit and economic injustice meted out to a majority. Although, the 1970 election was for the Constituent Assembly, Mujib’s six points became unacceptable to the minority. Consequently, the majority opted out, and established a new state, called Bangladesh.

When Bhutto came to power with lots of hope for the rest of Pakistan in 1972, the writing was on the wall that ethnic and nationalist politics would dominate in the aftermath of the East Pakistan crisis.

When the PPP introduced Sindhi language bill, the Urdu-speaking intelligentsia, which was politically dominated by Jamaat-e-Islami and Jamiat Ulema-e-Pakistan, turned it into a language issue, followed by ethnic riots.

All this led to the rise of Muhajir Qaumi Movement, the religious parties were wiped out, ethnic politics made inroads in Sindh and the only national party of Pakistan, the PPP, could not bridge this gap after Bhutto’s execution.

Muhajirs, who have always been seen in the country as the most educated and literate class with upright approach, fallen victim to situation, and the MQM politics, instead of working on these lines, became a reactionary force. It not only started using Urdu as a language of Muhajirs, but also portrayed themselves as 5th nationality, a separate identity. In 1988, the vote for the MQM became vote for Muhajir.

Despite unprecedented victory in local bodies and general elections, the MQM, instead of establishing schools, preparing the youth for CSS and bridging the gap with Sindhi progressive movements, indulged in activities which historically they were hardly used to. With the passage of time, they have been branded and known to the rest of the country as criminals, extortionists, targeted killers, etc. How they were armed and who used them has never been highlighted.

In 1992, when some MQM activists misbehaved with Urdu poet John Elia, just because he did not stand on the arrival of MQM leader, it was the beginning of the end to Urdu-speaking political direction.

Keeping the role of the establishment aside, which certainly used it to divide Sindh and its politics, and used it against the PPP, the fact remains that today Muhajirs may have got the identity but lost the direction. It is time to rethink and revive the actual spirit of Pakistan Day. For Urdu-speaking, it’s time for a fresh look at their political DNA.

This writer is the senior columnist and analyst of Geo, The News and Jang

Twitter: @MazharAbbasGEO

Courtesy – The News

 

 

advertisement

Comments

Comments (1)

Older Posts »