Archive for May, 2017

مشرف کا کرشمہ ـ ـ ـ الطاف کا نظریہ ــــــــ احمد اشفاق

نظریہ ضرورت جن لوگوں کے کام آتا ہے وہ ہر شے کو اپنی ضرورت کے حساب سے تولنے لگتے ہیں – جنرل پرویز مشرف صاحب کو تو آپ جانتے ہی ہیں ، جنرل صاحب ضروریات کے تحت لوگوں کو استعمال کرنے سے اچھی طرح واقف ہیں– افغان جنگ کے دوران اپنی ضرورت اور امریکا کو بلیک میل کرنے کے لئے سرحد میں ایم ایم اے کی حکومت بنوائی ، اپنی ضرورت کی خاطر شوکت عزیز کو امپورٹ کیا ، اپنے مقاصد کے حصول کے لئے پیپلز پارٹی کا فارورڈ بلاک بنایا ، اور اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے ایم کیو ایم کو استعمال کرتے رہے —

جنرل صاحب خوش فہمیوں کا شکار بھی رہتے ہیں ، فیس بک پر ٢ لاکھ فالورز ہو گئے تو انھیں لگا کہ وہ الیکشن جیت جائیں گے اور وہ پاکستان آ گئے ، یہ اور بات کہ ایئر پورٹ پر انھیں لینے ٢ درجن لوگ ہی آئے یہ بھی موضوع نہیں کہ کس طرح جناب عدالت میں پسینے بہاتے رہے اور پھر بھلا ہو اس دل کا جس میں درد ہوا اور ان کے جانے کی سبیل بنی اور سلامت رہے وہ  کمر جو یہاں درد کا شکار تھی لیکن دبئی میں مٹکتی رہی اور اسی کمر نے ان کے جانے کی راہ ہموار کی —  ایم کیو ایم زیرعتاب آئی تو انھیں لگا کہ ان کی لاٹری لگ جائے گی اور مہاجر انھیں اپنا سر پرست اعلی مان لیں گے — 

ہمیشہ کی طرح آج بھی وہ چاہتے ہیں کہ تمام لوگ ان کی ضروریات پوری کریں ، لیکن آج وہ اس ضرورت کو باہمی سمجھتے ہیں…. اب کی بار مشرف صاحب کو یہ غلط فہمی   ہے کہ مہاجروں کو ان کی زیادہ  ضرورت ہے—- ان کی شدید ترین خواہش ہے کہ وہ ایم کیو ایم کے مینڈیٹ کو اپنی جیب میں رکھتے ہوئے اے پی ایم ایل کی سرگرمیاں بحال کریں- کم از کم ان کے پاس ایک ایسی جماعت تو ہوگی جو عوامی طاقت رکھتی ہو— اس کے لئے وہ اپنی “کرشمہ ساز” شخصیت پیش کرتے ہیں ، اپنا نام نہیں لیتے لیکن سب کچھ کہہ جاتے ہیں — فرماتے ہیں کہ الطاف حسین کے بعد مہاجروں کے پاس ایسی کوئی کیرزمیٹک (کرشمہ ساز) شخصیت نہیں جو انھیں جوڑ کے رکھ سکے —
جنرل صاحب کہتے ہیں کہ ان کے دور میں کراچی کا نقشہ بدل گیا ، ہم اسے تسلیم کرتے ہیں لیکن ہمیں وہ آدمی بحیثیت لیڈر قبول ہے جس نے جنرل مشرف کو کراچی کا نقشہ بدلنے کیلئے مصطفیٰ کمال دیا ، وہ مشرف قبول نہیں جس نے مصطفیٰ کمال کو کام کرنے کے لئے  پیسے دیے—- جنرل صاحب کو یہ سمجھنا ہوگا کہ مہاجروں کو نظریہ ضرورت کی گود میں بیٹھا کوئی آمر نہیں بلکہ  ان کے حقوق کے تحفظ کا نظریہ دینے والا قبول ہے— ہمارے لئے کرشمہ ساز وہ ہستی ہے جس نے ہمیں ایک کیا ہے ، جس نے ایک بدترین فوجی آپریشن کے بعد آپ جیسے آمر کو بھی مجبور کیا کہ ہم سے بات کی جائے– ہم غیرتمند لوگ ہیں ہم ایک آدمی کی جدوجہد کو یوں کسی کی جھولی میں نہیں ڈال سکتے–آپ کے خیر خواہ کتنا ہی زور لگا لیں ، چاہے کتنی ہی محنت کرلیں لیکن ہم نہیں جھکیں گے… ہم انتظار کر لیں گے ، عذاب سہہ لیں گے، جبر برداشت کر لیں گے لیکن آپ کو مسیحا تسلیم نہیں کریں گے– ہم آپ کا احترام کرتے ہیں لیکن اگر آپ ہمارے سر پر مسلط ہونا چاہتے ہیں تو انتہائی معذرت آپ کوئی اور مہم جوئی کیجئے ، ہم با شعور اور با وفا لوگ ہیں–  ہماری نفسیات  “نان ہے تو جہان ہے” والی نہیں …ہم قیمے والے نان پہ ووٹ نہیں دیتے نہ ہی ہم وہ لوگ نہیں جنھیں جہان جی چاہا ہانک دیا—- نون نہیں تو قاف سہی، قاف نہیں تو انصاف سہی —
اگر آپ ظرف رکھتے ہیں تو دنیا کو آ کر بتائیں کہ ایم کیو ایم اور الطاف حسین را کے ایجنٹ نہیں ہیں ، یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ١٠ سال افواج پاکستان کا ساتھ دیا ، اگر یہ را ایجنٹ ہیں تو یہ بحیثت آرمی چیف آپ کے اوپر بھی ایک سوالیہ نشان ہے ، آپ اتنی آسانی سے دامن نہیں بچا سکتے ، اتنی آسانی سے مہاجروں کی سرپرستی کے خواب نہیں بن سکتے … آپ کو جواب بھی دینا ہوگا اور اگر یہ را ایجنٹ ہیں تو ان کا ساتھ دینے کا حساب بھی دینا ہوگا— اگر الطاف حسین کے لئے راستہ دشوار ہے تو اتنا آسان سفر آپ کے لئے بھی نہیں ہوگا— ان مہاجروں نے ہندوستان سے پاکستان لے لیا تھا آپ سے جواب و حساب تو بہت آسانی سے لے لیں گے !
آپ کو اپنا تمام تر کرشمہ اور تجربہ مبارک ، آپ اپنا کرشمہ رکھ لیجئے ہم اپنا نظریہ رکھ لیتے ہیں— ہمیں منزل کے نشاں دکھانے والا رہنما زیادہ عزیز ہے ، ہمیں اسی کی رہنمائی درکار ہے– ہمارا رہبر و رہنما ایک ہی ہے اور وہی ہمیں منزل تک لے جائے گا ،ہم خاندانی لوگ ہیں جسے دل میں بسا لیں اسے کسی کے کرشمے سے متاثر ہو کر یا حالات سے ڈر کر دل سے نکالا نہیں کرتے   — ہمارے بارے میں تو صدیوں پہلے نظیر اکبرآبادی کہہ گئے تھے :   :  
ترے مریض کو اے جاں شفا سے کیا مطلب وہ 

خوش ہے درد میں اس کو دوا سے کیا مطلب جو 

اپنے یار کے جور و جفا میں ہیں مسرور 

انہیں پھر اور کے مہر و وفا سے کیا مطلب 

فقط جو ذات کے ہیں دل سے چاہنے والے

انہیں کرشمہ و ناز و ادا سے کیا مطلب
#_احمد_اشفاق

Leave a Comment

کمال ہی کمال ہے – احمد اشفاق

کمال ہی کمال ہے کا نعرہ اگر کسی کی ذات پر جچتا ہے تو وہ مصطفیٰ کمال نہیں ہیں — اہل سیاست کو ایسے نعروں سے اجتناب کرنا چاہیے، ایسے نعرے اہل علم پر جچتے ہیں، جو زیادہ باکمال ہو نعرہ بھی اسی کا گونجے— جو شخصیت اس نعرے کے ساتھ انصاف کر سکتی ہے وہ حضرت مدثر کمال صاحب ہیں —

معاشیات کے ماہر، گورمنٹ پریمیئر کالج کے سابقہ پرنسپل اور ایک عظیم استاد– ہماری کتنی بدنصیبی ہے کہ ہم ان شخصیات سے واقف نہیں ہیں جنہوں نے اصل میں اس معاشرے میں ایک مثبت کردار ادا کیا ہے ، جنہوں نے تعلیم کو زیور جانا ہے اور اس کے لئے زندگی وقف کر دی– میں اس بات کا شاہد ہوں کہ مدثر صاحب نے اپنے وقت اور تعلیم پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا، انہوں نے اپنا کام بھی بھرپور لگن سے کیا اور دوسروں سے بھی کام لے کر دکھایا–  چاہے کلاس میں ایک بچہ ہی کیوں نہ رہا ہو انہوں نے کلاس لی اور مکمل دیانت داری سے لی — نہ وہ جمیعت کی غنڈہ گردی کو خاطر میں لاۓ اور نہ اے پی ایم ایس او کی بدمعاشی سے مرعوب ہوئے —
حضرت کے بارے میں جلد اپنی یاداشت کے سہارے ایک تفصیلی تحریر مرتب کروں گا، لیکن جانتا ہوں کہ آپ کی ذات کے ساتھ ایک فیصد بھی انصاف نہ کر پاؤں گا — تب تک آپ ان کی صحت کے لئے دعا گو رہیے اور میرے ساتھ یہ نعرہ لگائیے :
“کمال ہی کمال ہے ، مدثر کمال ہے”—

احمد اشفاق

Leave a Comment

صحافی اور ٹویٹر پولز 

ایک تو میں ان صحافیوں کے ٹویٹر پولز سے تنگ آ چکا ہوں — آپ کے خیال میں کون سی جماعت کراچی کی سیاسی خلا پر کر سکتی ہے ؟ آپ کے خیال میں اگلے الیکشن میں کس کی اکثریت ہوگی ؟ آپ کے خیال میں کون سی جماعت کراچی کے عوام کی حمایت حاصل کرے گی ؟ آپ کے خیال میں کراچی کی نمائندہ جماعت کونسی ہے ؟

اتنے فضول سوالات پوچھ کر اپنا اور دوسروں کا وقت برباد نہ کریں ، شہر جسے پوجتا ہے اس پر تو ہر طرح کی پابندی ہے، ہر قسم کے ہتھکنڈے استعمال کر کے اسے دیوار سے لگا کر ایسے سوال کیوں پوچھیں جائیں؟   پوچھنا ہی ہے تو یہ پوچھیں کہ اگر حالات ایسے ہی رہے تو اگلے انتخابات میں کون سا گدھ گوشت کا بڑا حصّہ ہتھیانے میں کامیاب ہوگا ؟؟؟؟ یا یہ پوچھیں کہ اگر الطاف حسین الیکشن لڑتے ہیں تو کون سی جماعت دوسرے نمبر پر آئے گی ؟ یا کس کس کی ضمانت ضبط ہوگی؟ یا یہ پوچھیں کہ آپ کے خیال میں تمام جماعتیں مل کر بھی الطاف حسین کے خلاف لڑیں تو کیا اپنی ضمانت بچا پائیں گی ؟؟  یہ ہیں حقیقت پر مبنی سوالات اور زمینی حقائق  !

احمداشفاق 

Leave a Comment