پی ایس-127 ایک تجزیه ———-احمد اشفاق

میں یه سمجھنے سے قاصر ھوں که متحده کے ھمدرد آج کی شکست پر حقیقی کے رویے سے مایوس کیوں ھیں کیوں اس بات کا رونا رو رھے ھیں که اپنوں نے اپنوں کو ڈبو دیا- ایک دوسرے کو اپنا مانا ھی کب ھے جو آج افسوس کیا جاے- حقیقی نے وهی کیا جو وه ھمیشه کرتی تھی, جو آپ اور وه ایک دوسرے کے ساتھ ھمیشه سے کرتے آے ھیں, جس کا زور جب کبھی چلا اس نے دوسروے کو ناکوں چنے چبواے ھیں-

یه بھی سمجھ سے بالاتر ھے که پی پی کی جیت پر یه انصافی اور جماعتی کیوں اتنا ٹھمک رھے ھیں,ان کو خوشی چچا کے جیتنے کی زیاده ھے یا ابو کے ھارنے کا غم بڑا ھے-یقین کیجیے که ان کا حال بھی شیخ رشید جیسا ھے جو خود کچھ کر نھیں سکتے سو دوسروں کے آسرے په سیاست کرتے ھیں(مثال تو کوی اور دینا چاه رھا تھا لیکن تھذیب کا دامن نھیں چھوڑ سکتا)-

ایم کیو ایم کی آج کی شکست کے بے شمار اسباب ھو سکتے ھیں اور ھیں بھی لیکن ان میں پڑنے کے بجاے مثبت چیزوں کو دیکھیے- کس جماعت میں اتنے مخلص کارکن ھوں گے جو لاٹھی, ڈنڈے اور گولی کھا کر بھی ٹس سے مس نه ھوں, کیمپ اکھاڑ دیے جایں تو فٹ پاتھ په دکان لگا کر کام شروع کردیں, گرفتار کر لیے جایں پھر بھی اپنا سبسٹیوٹ ارینج کر کے دیں-ماں بھنوں کی عزت کی رکھوالی جان پر کھیل کر کریں- یه لوگ ایم کیو ایم کا نھیں بلکه اس ملک کا اثاثه ھیں- جس ملک میں اتنا با شعور سیاسی کارکن ھو اس ملک کا مستقبل روشن ھے- کسی اور جماعت میں اتنے منظم اور محنتی لوگ ملنا نھایت ھی مشکل ھے-دفاتر مسمار, قیادت پریشان , حالات گمبھیر , پولنگ ایجنٹس کی قلت , سامنے اسلحه بردار مخالف اور پوری ریاستی مشینری ,اس کے بعد بھی ووٹرز کا نکلنا اور اپنی پارٹی کو فتح کے اتنے قریب لا کھڑا کرنا اس بات کی دلیل ھے کے یه قوم بیدار ھے – 

آج کے الیکشن نے ایک بات ثابت کردی اور وه یه که ایم کیو ایم ختم تو کسی صورت نھیں ھوگی,  وه مضبوط ھوگی , بڑی ھوگی , بهتر ھوگی, سنورے گی نکھرے گی اور ڈٹ کے مقابله کرے گی, انتظار کیجیے 2018 کے عام انتخابات کا تب ھی آپ کی تشفی ھوگی اور تب ھی أپ کے تعزیے ٹھنڈے ھوں گے اور تب ھی آپ کو یقین آے گا که ایم کیو ایم ایک نظریه ھے جو یونٹ سیکٹر گرا کے ختم نھیں ھوگا, وه ختم ھوگا محرومیاں ختم کرنے سے, زیادتیاں ختم کرنے سے- اگر آپ نے ایسا کیا ھوتا تو آج الطاف حسین کا کوی نام لیوا نھیں ھوتا لیکن تعجب ھے که وه آج بھی اپنے لوگوں کے لیے ایکسیپٹبل ھیں, اپنے تمام تر غیر زمه دارانه بیانات کے بعد بھی اپنے لوگوں کیلیے قابل قبول ھیں اور یه ایک سوالیه نشان ھے که آخر ایسا کیوں ھے که مقامی قیادت جس آدمی کا نام تک نه لیتی ھو,جو ملک دشمن ھو , جو راء ایجنٹ ھو, وه خاموش بیٹھ کر بھی اتنا طاقتور ھے کے آج بھی ووٹ اسی کے نام په پڑا ھے اور آج کے بعد بھی اسی کے نام پر پڑے گا —

جو ایم کیو ایم کی ھار کو ایم کیو ایم کا خاتمه سمجھ رھے ھیں ان کے پاس وقت ھے که خود کو ایم کیو ایم سے اچھا ثابت کریں, باتیں نه کریں, گری ھوی گاے پر نه کودیں بلکه کچھ کر کے دکھایں اور ایم کیو ایم کو اب وهی محنت کرنی ھوگی جو اپنے قیام کے وقت کی تھی, روٹھوں کو منانا ھوگا, دل صاف کرنے ھوں گے, غلطیوں سے سیکھنا ھوگا اور اپنوں کا ساتھ دینا ھوگا- رھی بات ووٹرز کی تو جس نے ایم کیو ایم کو ووٹ دینا ھے وه اس شکست کو انا کا مسله بناے گا اور آنے والے وقت میں اپنے عمل سے دکھاے گا که :

مانا نھیں ھے ھم نے غلط بندوبست کو
ھم نے شکست دی ھے ھمیشه شکست کو
(جون ایلیا)

احمد اشفاق

Leave a Comment

First National Anthem

Pakistan’s First National Anthem
Commissioned by Mohammad Ali Jinnah
Written by Jagan Nath Azad
Translation: Shoaib Nir

THE ANTHEM

O, Land of the Pure

The grains of your soil are glowing today
Brighter than the stars and the Milky Way
Awe-struck is the enemy by your will-power
Open wounds are sewn, we’ve found a cure

O, Land of the Pure…

New paths of progress, we resolve to tread
Proudly, our nation stands with a high head
Our flag is aflutter above the moon and the stars
As planets look up to us be it Mercury or Mars
No harm will now come from anywhere, for sure

O, Land of the Pure…

The nation has tasted success at last
Now the Freedom Struggle is a thing of the past
The wealth of our country knows no bounds
For us are its benefits and bounty all around
Of East and West, we have no fear

O, Land of the Pure…

Change has become the order of the day
No-one is a slave in the nation today
On the road to progress, we’re swiftly going along
Independent and fortunate, happy as a song
Gloomy winds are gone, sweet freedom’s in the air

O, Land of the Pure…

The grains of your soil are glowing today
Brighter than the stars and the Milky Way

image

پاکستان کا پہلا قومی ترانہ “جگن ناتھ آزاد” نے! محمد علی جناح کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے لکھا جو قریبا ڈیڑھ سال تک سماعت ہوتا رہا، پھر اس ترانے کو اسلئے مسترد کیا گیا کہ جگن ناتھ آزاد ہندو تھے

پہلا قومی ترانہ آپ کی خدمت میں پیش ھے

اے سرزمینِ پاک !
ذرے تیرے ہیں آج ستاروں سے تابناک
روشن ہے کہکشاں سے کہیں آج تیری خاک
تندیِ حاسداں پہ ہے غالب تیرا سواک
دامن وہ سل گیا ہے جو تھا مدتوں سے چاک
اے سرزمینِ پاک!

اب اپنے عزم کو ہے نیا راستہ پسند
اپنا وطن ہے آج زمانے میں سربلند
پہنچا سکے گا اسکو نہ کوئی بھی اب گزند
اپنا عَلم ہے چاند ستاروں سے بھی بلند
اب ہم کو دیکھتے ہیں عطارد ہو یا سماک
اے سرزمینِ پاک!

اترا ہے امتحاں میں وطن آج کامیاب
اب حریت کی زلف نہیں محو پیچ و تاب
دولت ہے اپنے ملک کی بے حد و بے حساب
ہوں گے ہم اپنے ملک کی دولت سے فیضیاب
مغرب سے ہم کو خوف نہ مشرق سے ہم کو باک
اے سرزمینِ پاک!

اپنے وطن کا آج بدلنے لگا نظام
اپنے وطن میں آج نہیں ہے کوئی غلام
اپنا وطن ہے راہ ترقی پہ تیزگام
آزاد، بامراد، جواں بخت شادکام
اب عطر بیز ہیں جو ہوائیں تھیں زہرناک
اے سرزمینِ پاک!

ذرے تیرے ہیں آج ستاروں سے تابناک
روشن ہے کہکشاں سے کہیں آج تیری خاک
اے سرزمینِ پاک!

Leave a Comment

تم سے نہ ہو پائے گا – احمد اشفاق

“تم سے نه ھو پاے گا”

مراد علی شاه صاحب کراچی شھر کے ھنگامی دورے کرتے نظر آرھے ھیں, بارش میں بھاگ دوڑ ھو , کچرا ٹھکانے لگانے کی دوڑ دھوپ ھو یا افسران کی سرزنش ھو, گاڑی رکوا کر راهگیر کی خبر گیری ھو یا عام مقام په طعام کرنا, وه یه تمام کام کر رھے ھیں- یوں محسوس ھوتا ھے که وه سب کام جو مصطفی کمال نے ایم کیو ایم کے پلیٹ فارم سے کیے اب وھی کام مراد شاه وزیر اعلی کے طور پر کر رھے ھیں یا کرنا چاھتے ھیں- مراد صاحب آپ کا عزم قابل تعریف ھے لیکن اگر آپ یه تمام اختیارات عوامی نمائندوں کو دے دیں تو آپ اس خواری سے بچ جائیں گے اور کام بھی سھولت سے ھوگا

خود کو مصطفیٰ کمال نه سمجھیں,,,,مصطفی کمال ایک شھر کے ناظم تھے اور آپ کی زمه داری پورا صوبه ھے–  کمال کے ساتھ ایم کیو ایم کے لاتعداد یوسی ناظمین, کونسلرز , ورکرز اور 14 منتخب ٹاون ناظمین تھے جو اپنی قوم کیلیے اور الطاف حسین کے نام پر دن رات ایک ٹانگ پر کھڑے ره کر کام کرتے تھے- کمال کے پاس الطاف حسین جیسا لیڈر تھا جو ھر کام کو مانیٹر کیا کرتا تھا, نه کرپشن برداشت کرتا تھا نه کرنے دیتا تھا- اسی وجه سے تین سو ارب کے پروجیکٹس میں کوی کرپشن نھیں ھوی جس کا اعتراف خود کمال صاحب نے کیا —

مراد صاحب آپ کے وزرا اور بیروکریسی کرپشن کیلیے بدنام ھیں اور  آپ کے قائد کی ساکھ بھی ساس معاملے میں اچھی نھیں ھے- نه آپ کے پاس الطاف حسین جیسا لیڈر ھے اور نه ان 14 ناظمین جیسے منتخب نمایندے جو بے لوثی سے شھر کی خدمت کریں— نه گھر بار دیکھیں نه زاتی کام کاج, نه صبح کا ھوش ھو نه رات کی خبر-آپ کے ارادے سو فیصدی نیک ھوں گے لیکن  اپنے ارادوں کی تکمیل کے واسطے ایسے لوگ تو لے کر آیے – ایسا وژنری لیڈر تو لایے—-

آپ صرف کراچی کے وزیر اعلی نھیں پورے سندھ کے چیف ھیں, یه دورے پورے سندھ میں کیجیے اس امپریشن کو رد کیجیے که دیھی سندھ نیگلیکٹڈ ٹیریٹری ھے – مقامی حکومت کو اختیار تو دیجیے اور پھر دیکھیے بلا تفریق شھر کی خدمت کیسے کی جاتی ھے – یه خدمت اور محنت جس کا کام ھے اسے کرنے دیجیے —

بقول حضرت رمادھیر سنگھ : “تم سے نه ھو پاے گا”

احمد اشفاق

Leave a Comment

xplore to www.showbizhungama.com

you guys can xplore all the entertainment which is going on now …only on www.showbizhungama.com

Comments (1)

« Newer Posts