Archive for April, 2017

مان میرا احسان ارے نادان

_مان_میرا_احسان__ارے_نادان

انسان جہاں جاگ اٹھے ، وہیں  سویرا ہے ، اگر احسان اللہ احسان خواب غفلت سے ذرا دیر میں جاگے تو کیا ہوا ؟ یہی کیا کم ہے کہ ہمارے کسی غیور فوجی جوان کی گولی کھانے سے پہلے جاگ اٹھے — غفلت کی نیند سے جاگ جانا ابدی نیند سونے سے تو بہتر ہی ہے !

تو کیا ہوا اگر وہ ہمارے ساٹھ ہزار شہری مار کر جاگے ؟ ہمارے فوجیوں کے گلے کاٹ کر جاگے ؟ لاشوں کو قبر سے نکال کر درختوں پر ٹانگ کر جاگے ؟ ان گنت بم دھماکوں میں سینکڑوں شہریوں کے چیتھڑے اڑا کر جاگے ؟ سکولوں میں علم کی شمع بجھا کر جاگے – مزاروں پر دھماکے کر کے بیدار ہوئے — شیعوں کا قتل عام کر کے آنکھ کھولی —– عیسائیوں کو گولی سے بھون کر اٹھے یا رنگ مذہب کی تفریق کیے بغیر جانوروں کی  طرح انسانوں کو ذبح کر کے جاگے !! آخر جاگ تو گئے !!

کیا فرق پڑتا ہے اگر انھیں اس بات کا ادراک بہت دیر میں ہوا کہ طالبان بیرونی  ایجنڈے پر کاربند ہیں ، بھارت اور افغانستان کے ہاتھوں استعمال ہو رہے ہیں — ہمیں تو اس بات پر مسرت ہونی چاہیے کہ حضور کو آج یہ احساس ہو گیا کہ پاک فوج مرتد نہیں بلکہ مجاہد ہے —- یہ بحث بھی غیر ضروری ہے کہ ان کو ١٠ سال تک بھتے لینے میں ، اغوا برائے تاوان کرنے میں یا قتل و غارت مچانے میں کوئی عار کیوں نہ محسوس ہوئی ، انھیں اتنے عرصے بعد کیونکر لگا کہ یہ کام غیر قانونی ، غیر اسلامی ہیں اور ایسا کر کے وہ  کفار کی خدمت کر رہے ہیں —

 آپ ان باتوں میں وقت نہ برباد کیجئے ….آپ ایک سچے لیکن بہکے ہوئے ناراض مجاہد کی پہچان دیکھیے کہ وہ اپنے ہی ملک میں قتل عام کرتا رہا ، بے گناہوں کو خون میں نہلاتا رہا ، ریاست کو للکارتا رہا ، معصوموں کے لہو سے ہولی کھیلتا رہا  اور اسے سو فیصد جائز بھی سمجھتا رہا—-  لیکن جیسے ہی اس کے سامنے اسرائیل کا نام آیا اوراسرائیل کی حمایت و تائید کی بات ہوئی ، فوری طور پہ اس مجاہد کو یہ احساس ہو گیا کہ میاں، یہاں دال میں کچھ کالا ہے ، پوری پاکستانی قوم میری دشمن ہو سکتی ہے مگر اسرائیل میرا دوست نہیں ہو سکتا ! حضرت احسان کے ساتھ بھی تو ایسا ہی ہوا اور ذرا دیکھیے کتنے اچھے وقت پر ہوا  !!!

آپ ایسا ہرگز نہ سوچیے کہ احسان اللہ احسان صاحب کے نزدیک اسلام کی تشریح وہی ہے جو طالبان کرتے ہیں— وہ تو آج اپنے پیغام میں واضح طور پر کہہ  رہے ہیں کہ طالبان نے اسلام کی غلط تشریح کر کے نوجوان نسل کو گمراہ کیا، اور طالبان قیادت صرف اپنے مفاد کے لئے سرگرم عمل ہے   —اصل میں احسان صاحب کے دل میں تو ایمان کی شمع روشن تھی لیکن ہماری بے اعتنائی کی ہوا اسے بجھاتی رہی اور اس میں  کچھ کوتاہیاں ہماری بھی ہیں ، ہم نے اگر عمران خان صاحب کی بات مانی ہوتی اور طالبان کو دفتر فراہم کیا ہوتا تو آج احسان اللہ احسان ہی نہیں تمام تر طالبان قیادت تائب ہو چکی ہوتی — منور حسن چیختے رہے کہ طالبان شہید ہیں ، ان کا امیر شہید ہے، مگر ہم نہ مانے ، اور یہی روش ہمارے ‘ناراض بھائیوں’ کی ناراضگی کو مزید بڑھاوا دیتی رہی — شکر منائیے ، مٹھائیاں تقسیم کیجئے ، نوافل ادا کیجئے کہ حضرت احسان اللہ احسان نے اپنی ناراضگی ختم کر دی ہے ! احسان بھائی بھی تو یہی کہتے ہوں گے کہ ” مان میرا احسان ، ارے نادان کہ میں نے چھوڑ دیے طالبان”—-

احسان صاحب کے راہ راست پر آ جانے کے بعد ہمیں یہ امید کرنی چاہیے کہ حالات بہتر ہوں گے ، آھستہ آھستہ سب شر پسند ‘ناراض’ عناصر قومی دھارے میں آتے جائیں گے — خود کش دھماکے ختم ہوں گے ، فرقہ واریت کا خاتمہ ہوگا ، فاٹا سے لے کر کراچی تک امن و سلامتی ہوگی — ہندوستان اور افغانستان کی مشترکہ سازشوں کا خاتمہ ہوگا ، ہماری قوم کو ایک متبادل بیانیہ فراہم کر دیا جائے گا جو آئندہ دس پندرہ برس کے لئے کافی ہوگا ——

احمد لدھیانوی صاحب کا ایک جملہ آج کل سوشل میڈیا کی زینت بنا ہوا ہے، کیا ہی اچھا ہوتا کہ یہ جملہ عزیزم احسان اللہ احسان اپنے ویڈیو پیغام کے ابتدائیے میں وہ جملہ استعمال کرتے اور ہماری قوم میں ایک نئی روح پھونک دیتے :
“میں آ گیا ہوں ، اب فکر کی کوئی بات نہیں” 
 احمد اشفاق

Leave a Comment